ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات

ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات۔

چھٹی مردم شماری 2017ء کے ابتدائی نتائج کے مطابق پاکستان کی آبادی13کروڑ 23لاکھ سے بڑھ کر21کروڑ 31 لاکھ سے زائد ہوگئی ہے، کیا ہی اچھا ہوتا کہ کوئی ارادہ یہ رپورٹ بھی جاری کرتا کہ ان میں سے وہ کون خوش نصیب لوگ ہیں جن کو بنیادی انسانی حقوق بھی حاصل ہیں، اور ہمارے معاشرے میں کمزور کے لئے ایک ہی قانون رائج ہے جو حضرت علامہ اقبال رحمہ اللہ علیہ نے یوں بیان کیا تھا کہ
"تقدیر کے قاضی کا یہ فتوی ہے ازل سے
ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات"
کراچی کا شاہزیب ہو، لاہور کا زین یا گجرات کا 15 سالہ رحمت ہو، طاقتور مجرموں کو مصلحتوں کی ڈھال کے پیچھے پناہ ملتی چلی آئی ہے۔ ہم بحثیت معاشرہ اس وقت تک ہلتے ہی نہیں جب تک دو چار لاشیں نہ گریں یا کچھ ایسی انہونی نہ ہو جائے کہ  مذمت کرنا ہماری معاشرتی مجبوری نہ ٹھہرے،
یہ کروڑوں بھیڑ بکریاں، اور بھینیس جن کو اپنی لاٹھیوں سے پیار ہے، ہاں کبھی کبھی اپنے کسی ہم نسل کے مرنے پر رنجیدہ ہو جاتے ہیں، جب تیز چھری کی بجائے کسی کند کلہاڑے کے وار سے ذبح کر دیئے جائیں، یا قتل کرنے کا طریقہ ذلت آمیز بھی ہو۔۔۔ اور تھوڑی بہت علم کی روشنی جس نے ان مظلوم انسانوں میں کچھ کچھ انسانی جذبات کی پیوند کاری بھی شروع کر رکھی ہے، یہی پیوند کاری اب حکمرانوں کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔
اب یہ لاٹھیاں بھی پریشان ہیں کہ اب ان بھیڑ بکریوں باں باں کی آوازیں کچھ بڑھنے لگی ہیں، پہلے تو ہم بڑی آسانی سے ان محکوموں کو سڑک کنارے کچل دیا کرتے تھے تو آواز تک نہیں نکلتی ہے اور ہم نے ان کو سڑک کے کنارے کھڑے ہونے کی عزت کیا سونپی یہ تو خود کو سڑکوں کا مالک ہی سمجھنے لگے ہیں، ابھی کل ہی کی بات ہے کہ جب سرکاری پروٹوکول میں جب ان کے اپنے بچے JIT کے سامنے پیش ہوئے تو نہ صرف ان کی اپنی بلکہ ان کے درباریوں کی آہ و فغاں سارے وطن نے سنی۔ کیا وجہ ہے کہ جب اپنی سیاست خطرے میں نظر آئے قربانی انہی محکوموں کی قربانی بھی دی جائے۔۔؟ کیا وجہ ہے کہ حکمرانوں کے بچے جہازوں پر سفر کرتے ہیں اور میرے بچے صرف امپورٹڈ گاڑی دیکھنے اور اس گاڑی میں بیٹھے ایک نااہل شخص کی شرمندگی دیکھنے کی خواہش میں مارے جاتے ہیں، اور مرحب کے قافلے میں سے کسی شخص کو توفیق نہیں ہوتی کہ نااہلی کے جنازے کو روک کر گاڑی سے کچلے گئے بچے کو ہسپتال ہی چھوڑ دیا جائے، اور نااہل نواز شریف اپنی تقریر میں بھی عدلیہ کو گالیاں دلوائیں اور شہید بچے کے لواحقین سے دو بول ہمدردی کے بھی نہیں بولے۔ حد تو یہ ہے کہ سرکاری داماد جو 1500 ریال ماہانہ پر رکھا گیا ہے وہ کہنے لگا کہ تحریک پاکستان کے لاکھوں شہید ہیں اور یہ نااہل ریلی کا پہلا شہید۔ بے شرمی کے ان قطب میناروں سے کوئی پوچھے کہ یہ نااہلی کا پہلا شہید کوئی شریف کیوں نہیں۔۔؟ کیا ظالم کا ہاتھ روکنے والا کوئی نہیں، کلمہ حق کہنے والوں کی زبانیں خاموش کیوں ہیں؟ یہ معاشرہ کب اپنی تعمیر کی طرف توجہ دے گا۔ ہمیں یہ یاد رکھنا ہو گا کہ ہمیں زندہ رہنے کے لئے کچھ قوانین ترتیب دینے ہی ہوں گے۔ لاٹھی کا قانون بھی ایک ترتیب رکھتا ہے، ظالم ابن ظالم اور مظلوم ابن مظلوم نسلیں اسی سلسلہ کی پروردہ ہیں۔ لیکن ایسے گھٹن زدہ معاشرے اپنی موت آپ مر جاتے ہیں جہاں لاٹھیاں بھی ان دیکھے برسنے کی عادی ہو جائیں۔ معاشرے کے فیصلہ سازوں سے درخواست گزار ہوں، خدا کے لئے ظلم کے ہاتھ پکڑ لیجئے، کتنے لوگوں کی لاشیں اور لہو یہ سمجھانے میں صرف ہوں گی کہ صرف اور صرف قانون کی بالادستی اس ملک کے مسائل کا حل ہے۔ ایسا قانون جو سب کے لئے برابر ہو، ایسا قانون جو کتابوں کے علاوہ میدان عمل میں بھی موجود ہو۔ جس میں میرے بچے اور حکمران کے بچے کی توقیر برابر ہو۔


محمّد فیصل



Post a Comment