مجھے ہے حکم اذاں
"کفایت شعاری"
کسی سیانے کا قول ہے کہ "تعلیم کی کمی کو تربیت اچھی طرح ڈھانپ لیتی ہے مگر تربیت کے شگاف کو تعلیم کبھی پورا نہیں کر سکتی"
اسلام آباد میں جاری آزادی مارچ میں شامل مدارس کے طلباء کی میڈیا سے کی گئی گفتگو کی ویڈیوز آج کل سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں جس میں ٹیلی ویژن چینل کا نمائندہ لانگ مارچ اور دھرنے کے شرکاء سے عمومی سوال پوچھتا ہے کہ استعفی کیوں مانگتے ہو؟ اور جواب میں کہا جاتا ہے کہ عمران خان یہودی ایجنٹ ہے اور اس کے بچے امریکہ میں ہیں۔ پوچھا آپکو کیسے پتہ کہ یہ یہودی ایجنٹ ہے تو فرماتے ہیں کہ ہمارے اساتذہ و قائدین نے ہمیں بتایا۔ دو دن تک ویڈیو گردش کرتی رہی جس کے نتیجے میں علماء کرام نے اپنے مریدوں، شاگردوں کو منع کیا کہ میڈیا سے بات نہ کی جائے تاکہ نیا کوئی نمونہ دنیا کے سامنے نہ آ جائے۔
مدارس میں پڑھنے والے ایسے افراد کو دیکھ کر افسوس ہوا کہ دنیا کا سب سے اعلی علم یعنی علم دین حاصل کرنے والے مسلمانوں کی ذہنی حالت کیسی ہے؟ مدارس میں دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت کا معیار کیا ہے اس کا نمونہ دارالحکومت کی سڑکوں پر نظر آ رہا ہے۔
ہماری خوراک صرف وہی نہیں ہوتی کہ جو ہم کھاتے پیتے ہیں، بلکہ ہم جو دیکھتے، سنتے اور پڑھتے ہیں، جنکے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہیں رابطے رکھتے ہیں. اسی طرح ہم کن معاملات کو اپنے دل و دماغ میں جذباتی، نفسیاتی جگہ دیتے ہیں کیونکہ یہ سب بھی ہماری خوراک ہی کا حصہ ہوتا ہے! کچھ مدارس کا معاملہ تو یہ ہے کہ یہاں طالبعلموں کی شکل میں اسلام کی سربلندی کے لیے مسلمان نہیں بلکہ مختلف مسالک کے اندھے پیروکار، سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے عاری اور لکیر کے فقیر غلام پیدا کیے جا رہے ہیں۔ جو پیر یا مدرس نے کہہ دیا وہی حرف آخر ہے۔
ان "پیروں علماء کے ذریعے مریدوں" کی جس طرح تربیت ہو رہی ہے وہ بھی انتہائی اذیت ناک ہے، پیر صاحب جونہی اپنے دولت خانہ کی دہلیز سے باہر یا اپنی قیمتی گاڑی سے باہر قدم رکھتے ہیں تو دروازے پر نظریں گاڑے مریدین اور شاگردوں پر گویا نزع کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ ہاؤ ہو کی صدائیں بلند ہوتی ہیں، کوئی شوں شوں کی آواز نکالتا ہے کوئی تالیاں بجاتا ہے، کوئی درود و سلام پڑھتا ہے، کوئی نعرے لگاتا ہے کوئی جوتے اتارتا ہے۔ کوئی کچھ کرتا ہے اور کوئی کچھ کرتا ہے۔ اب ملاقات کا سلسلہ شروع ہوتا ہے، پیر صاحب مریدوں کے جراثیم سے بچنے کے لئے ہاتھوں پہ دستانے چڑھا لیتے ہیں، کوئی مرید قدموں میں گرا ہوا ہے، کسی نے گھٹنے تھام رکھے ہیں، کوئی کندھوں کو بوسے دے رہا ہے، کوئی پشت سے چمٹا ہوا ہے، کوئی ہاتھ چومنے کے چکر میں ہے۔ غرضیکہ ایک ہنگامہ بپا ہے اور دھکم پیل ہو رہی ہے۔ جبکہ پیر صاحب نے بڑی شان بے نیازی سے ہاتھ آگے کیا ہوا ہے کسی کو ایک ہاتھ ملاتے ہیں تو کسی کے لئے سر ہلاتے ہیں، جعلی پیر یا جھوٹے عالم کی آمد و رفت پر بار بار کی اٹھک بیٹھک ہوتی ہے۔ ہاتھ جوڑ جوڑ کر بات کی جاتی ہے جان کی امان طلب کی جاتی ہے۔ کوئی حالت قیام میں ہے تو کوئی حالت رکوع میں، کوئی التحیات میں بیٹھا ہوا ہے۔ اگر خدانخواستہ آپ نے ان کے ہاتھ چومنے میں ذرا سی کوتاہی کر لی تو بس! پیر صاحب کا غیظ و غضب دیکھنے والا ہوتا ہے، آنکھیں شعلہ بار ہو جاتی ہیں اور جسم تھرتھرانے لگتا ہے۔ آپ ایک نظر کی جنبش میں مریدین سے مرتدین کی صف میں شامل کر لئے جاتے ہیں۔ اسی طرح اگر آپ نے کسی مجبوری کے تحت نذرانہ کی ادائیگی میں کچھ پس و پیش کی ہے تو آپ ہمیشہ کے لئے پیر صاحب کی نظروں میں کھٹک جاتے ہیں، توجہات و تصرفات سے محرومی کا سلسلہ شروع ہوتا ہے، زمین و آسمان کی تمام آفات و بلیات آپ کے گھر کا مقدر ٹھہرتی ہیں۔ اب ایسے لوگوں کو یہ سوچنے کی بھی اجازت نہیں کہ اگر میں دال سبزی کھا رہا ہوں تو پیر کے پیالے میں مٹن قورمہ، مرغ، اور حلوہ کیوں ہے؟
ٹی وی پر ایک ٹاک شو میں بات کرتے ہوئے باریش بزرگ کو یہ کہتے سنا کہ "میں پاکستان کا ذہین ترین آدمی ہوں" پتہ چلا موصوف کسی مدرسے کے مفتی ہیں۔ اگلے لمحے فرمانے لگے کہ "وکی لیکس والا وکی جمائما کا کزن ہے۔" بس مجھے سمجھ آ گئی جہاں استاد، معلم، عالم اور مفتی ایسا ہے تو ان کے "زیر تسلط" مرید اور شاگرد کیسے ہوں گے؟
جس ملک میں مذہب سکھانے کے لئے مفتی کفایت اللہ جیسے جاہلوں کو عالم سمجھا جائے، اس ملک میں جاہلوں کی ایک پوری نسل پیدا ہوجائے گی۔ جسکا نتیجہ آج آپ کے سامنےہے۔
جے یو آئی ف کے کارکنان نے کل اسلام آباد نام نہاد آزادی مارچ میں خاتونِ اوّل محترمہ بشریٰ بی بی کا پتلا بناکر اس کے ساتھ غلط حرکتیں کرتے رہے۔ اب ان "علماء کرام اور دین کے طالب علموں" کے بارے کچھ کہیں تو لوگ کہتے ہیں کہ علماء اور دین دار لوگوں کے خلاف بات نا کرو گناہ گار ہوجاؤ گے۔محمد فیصل۔


Post a Comment